مرزا کا ایک رسالہ ہے جس کا نام ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ ہے ،اس کے صفحہ 673 پر لکھتا ہے:
میں احمد ہوں جو آیت’’مُبَشِّرًا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘میں مراد ہے ۔ 1
آیہ کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا مسیح ربّانی عیسٰی بن مریم روح اﷲ علیہما الصلوٰۃ والسلام کلمۃ اﷲ علیہ صلوٰۃ اﷲ نے بنی اسرائیل سے فرمایا کہ مجھے اﷲ عزوجل نے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے توریت کی تصدیق کرتا اور اس رسول کی خوشخبری سناتا جو میرے بعد تشریف لانے والا ہے جس کا نام پاک احمد ہے ۔ ازالہ کے قول ملعون مذکور میں صراحتًا ادّعا ہوا کہ وہ رسول پاک جن کی جلوہ افروزی کا مژدہ حضرت مسیح لائے معاذ اﷲ مرزا قادیانی ہے۔
توضیح مرام طبع ثانی صفحہ ۹ پر لکھتا ہے کہ:
میں محدث ہوں اور محدث بھی ایک معنی میں نبی ہوتا ہے۔2
لا الٰہ الا اﷲ لقد کذب عدوّ اﷲ ایھا المسلمون (اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں، دشمن خدا نے جھوٹ بولا اے مسلمانو!۔ ت) سید المحدثین عمر فاروق اعظم
ہیں کہ انہیں کے واسطے حدیث محدثین آئی۔ انہیں کے صدقے میں ہم نے اس پر اطلاع پائی کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:قد کان فیما مضی قبلکم من الامم اناس محدثون فان یکن فی امتی منھم احد فانہ عمر بن الخطاب رواہ احمد والبخاری عن ابی ھریرۃ واحمد ومسلم والترمذی والنسائی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما3 یعنی اگلی امتوں میں کچھ لوگ محدث ہوتے تھے یعنی فراست صادقہ والہام حق والے، اگر میری امت میں ان میں سے کوئی ہوگا تووہ ضرور عمر بن خطاب ہے
(اسے احمد اور بخاری نے حضرت ابوہریرہ
سے اور احمد،مسلم،ترمذی اور نسائی نے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ
سے روایت کیا۔ ت)
فاروق اعظم نے نبوت کے کوئی معنی نہ پائے صرف ارشاد فرمایا: لو کان بعدی نبی لکان عمر بن الخطاب رواہ احمد والترمذی والحاکم عن عقبۃ بن عامر والطبرانی فی الکبیر عن عصمۃ بن مالک [foot یعنی اگر میرے بعد کوئی نبی ہوسکتا تو عمر ہوتا، (اسے احمد و ترمذی اور حاکم نے عقبہ بن عامر سے اور طبرانی نے کبیر میں عصمۃ بن مالک
سے روایت کیا ہے،ت)
مگر پنجاب کا محدث حادث کہ حقیقۃً نہ محدث ہے نہ محدث ، یہ ضرور ایک معنی پر نبی ہوگیا الا لعنۃ اﷲ علی الکٰذبین (خبردار، جھوٹوں پر خدا کی لعنت۔ ت) والعیاذ باﷲ رب العٰلمین
دافع البلاء مطبوعہ ریاض ہند صفحہ 9 پر لکھتا ہے:
سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔4
مجیب پنجم نے نقل کیا، ونیز میگو ید کہ :
خدائے تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام امتی بھی رکھا ہے اور نبی بھی۔
ان اقوال خبیثہ میں:
اولا :
ثانیاً:نبی اﷲ و رسول اﷲ و کلمۃ اﷲ عیسٰیروح اﷲ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر افتراء کیا وہ اس کی بشارت دینے کو اپنا تشریف لانا بیان فرماتے تھے۔
ثالثاً : اﷲ عزوجل پر افتراء کیا کہ اس نے عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس شخص کی بشارت دینے کے لئے بھیجا، اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَ 5
بیشک جو لوگ اﷲ عزوجل پر جھوٹ بہتان اٹھاتے ہیں فلاح نہ پائیں گے۔
اور فرماتا ہے:
اِنَّمَا یَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ6
ایسے افتراء وہی باندھتے ہیں جو بے ایمان کافر ہیں۔
رابعاً: اپنی گھڑی ہوئی کتاب براہین غلامیہ کو اﷲ عزوجل کا کلام ٹھہرایا کہ خدائے تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں یوں فرمایا، اور اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ 7
خرابی ہے ان کے لئے جو اپنے ہاتھوں کتاب لکھیں پھر کہہ دیں یہ اﷲ کے پاس سے ہے تاکہ اس کے بدلے کچھ ذلیل قیمت حاصل کریں، سو خرابی ہے ان کے لئے ان کے لکھے ہاتھوں سے اور خرابی ہے ان کے لئے اس کمائی سے۔
ان سب سے قطع نظر ان کلمات ملعونہ میں صراحۃً اپنے لئے نبوت و رسالت کا ادعائے قبیحہ ہے اور وہ باجماعِ قطعی کفر صریح ہے، فقیر نے رسالہ جزاء اﷲ عدوہ بابائہ ختم النبوۃ1317ھ خاص اسی مسئلے میں لکھا اور اس میں آیت قرآن عظیم اور ایک سو دس (110) حدیثوں اور تیس (30) نصوں کو جلوہ دیا، اور ثابت کیا کہ محمد رسول اﷲ ﷺ کو خاتم النبیین ماننا، ان کے زمانہ میں خواہ ان کے بعد کسی نبی جدید کی بعثت کو یقینا قطعاًمحال و باطل جاننا فرض اجل وجزءِ ایقان ہے ۔
وَ لٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِيِّنْ 8
(ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیوں میں پچھلے۔ ت)
نص قطعی قرآن ہے اس کا منکر، نہ منکر بلکہ شک کرنے والا، نہ شاک کہ ادنٰی ضعیف احتمال خفیف سے تو ہم خلاف رکھنے والا قطعاً اجماعاً کافر ملعون مخلد فی النیران ہے، نہ ایسا کہ وہی کافر ہو بلکہ جو اس کے اس عقیدہ ملعونہ پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ جانے وہ بھی، کافر ہونے میں شک و تردّد کو راہ دے وہ بھی کافر ہیں، الکفر جلی الکفران ہے،
قول دوم وسوم میں شائد وہ یااس کے اذناب آج کل کے بعض شیاطین سے سیکھ کر تاویل کی آڑلیں کہ یہاں نبی ورسول سے معنی لغوی مراد ہیں یعنی خبردار یا خبر دہندہ اور فرستادہ مگر یہ محض ہوس ہے۔
اوّلاً:صریح لفظ میں تاویل نہیں سنی جاتی، فتاوٰی خلاصہ و فصول عمادیہ و جامع الفصولین وفتاوٰی ہندیہ وغیرہا میں ہے:
وَاللَّفْظُ لِلْعِمَادِيِّ: لَوْ قَالَ أَنَا رَسُولُ ٱللّٰهِ، أَوْ قَالَ بِٱلْفَارِسِيَّةِ: مَن پِيغَمْبَرَمْ، يُرِيدُ بِهِ: مَن پِيغَامْ مِي بَرَمْ، يُكْفُرْ9
یعنی اگر کوئی اپنے آپ کو اﷲ کا رسول کہے یا بزبان فارسی کہے میں پیغمبر ہوں اور مراد یہ لے کہ میں کسی کا پیغام پہنچانے والا ایلچی ہوں کافر ہوجائے گا۔
امام قاضی عیاض کتاب الشفاء فی تعریف حقوق المصطفٰی ﷺ میں فرماتے ہیں:
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ صَاحِبُ سَحْنُونٍ رَحِمَهُمَا ٱللّٰهُ تَعَالَىٰ فِي رَجُلٍ قِيلَ لَهُ: لَا وَحَقِّ رَسُولِ ٱللّٰهِ، فَقَالَ: فَعَلَ ٱللّٰهُ بِرَسُولِ ٱللّٰهِ كَذَا وَذَكَرَ كَلَامًا قَبِيحًا ، فَقِيلَ لَهُ: مَا تَقُولُ يَا عَدُوَّ ٱللّٰهِ فِي حَقِّ رَسُولِ ٱللّٰهِ؟ فَقَالَ لَهُ أَشَدَّ مِنْ كَلَامِهِ ٱلْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ بِرَسُولِ ٱللّٰهِ ٱلْعَقْرَبَ. فَقَالَ ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ لِلَّذِي سَأَلَهُ: أِشْهَندْ عَلَيْهِ، وَأَنَا شَرِيكُكَ يُرِيدُ فِي قَتْلِهِ وَثَوَابِ ذٰلِكَ . قَالَ حَبِيبُ بْنُ ٱلرَّبِيعِ: لِأَنَّ ٱدِّعَاءَ ٱلتَّأْوِيلِ فِي لَفْظٍ صَرِيحٍ لَا يُقْبَلُ 10
یعنی امام احمد بن ابی سلیمان تلمیذ و رفیق امام سحنون رحمہما اﷲ تعالیٰسے ایک مرد ک کی نسبت کسی نے پوچھا کہ اس سے کہا گیا تھا رسول کے حق کی قسم اس نے کہا اﷲ رسول اﷲ کے ساتھ ایسا ایسا کرے اور ایک بدکلام ذکر کیا کہا گیا اے دشمن خدا! تو رسول اﷲ کے بارے میں کیا بکتا ہے تو اس سے بھی سخت تر لفظ بکا پھر بولا میں نے تورسول اﷲ سے بِچّھو مراد لیا تھا۔ امام احمد بن ابی سلیمان نے مستفتی سے فرمایا تم اس پر گواہ ہو جاؤ اور اسے سزائے موت دلانے اور اس پر جو ثواب ملے گا اس میں میں تمہارا شریک ہوں، (یعنی تم حاکم شرع کے حضور اس پر شہادت دو اور میں بھی سعی کروں گا کہ ہم تم دونوں بحکم حاکم اسے سزائے موت دلانے کا ثوابِ عظیم پائیں) امام حبیب بن ربیع نے فرمایا یہ اس لئے کہ کھلے لفظ میں تاویل کا دعوٰی مسموع نہیں ہوتا۔
مولانا علی قاری شرح شفاء میں فرماتے ہیں:
ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا أَرَدْتُ بِرَسُولِ ٱللّٰهِ ٱلْعَقْرَبَ، فَإِنَّهُ أُرْسِلَ مِنْ عِنْدِ ٱلْحَقِّ وَسُلِّطَ عَلَى ٱلْخَلْقِ، تَأْوِيلًا لِلرِّسَالَةِ ٱلْعُرْفِيَّةِ بِٱلْإِرَادَةِ ٱللُّغَوِيَّةِ، وَهُوَ مَرْدُودٌ عِنْدَ ٱلْقَوَاعِدِ ٱلشَّرْعِيَّةِ11
یعنی وہ جو اس مردک نے کہا کہ میں نے بچّھو مراد لیا، اس طر ح اس نے رسالت عرفی کو معنی لغوی کی طرف ڈھالا کہ بچّھو کو بھی خدا ہی نے بھیجا اور خلق پر مسلّط کیا ہے، اور ایسی تاویل قواعدِ شرع کے نزدیک مردود ہے۔
علامہ شہاب خفاجی نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
هٰذَا حَقِيقَةُ مَعْنَى ٱلْإِرْسَالِ، وَهٰذَا مِمَّا لَا شَكَّ فِي مَعْنَاهُ، وَإِنْكَارُهُ مُكَابَرَةٌ، لٰكِنَّهُ لَا يُقْبَلُ مِنْ قَائِلِهِ، وَٱدِّعَاؤُهُ أَنَّهُ مُرَادُهُ لِبُعْدِهِ غَايَةَ ٱلْبُعْدِ، وَصَرْفُ ٱلْلَّفْظِ عَنْ ظَاهِرِهِ لَا يُقْبَلُ، كَمَا لَوْ قَالَ: أَنْتِ طَالِقٌ، قَالَ: أَرَدْتُ مَحْلُولَةً غَيْرَ مَرْبُوطَةٍ، لَا يُلْتَفَتُ لِمِثْلِهِ، وَيُعَدُّ هَذَيَانًا (ـ مُلْتَقَطًا) 12
یعنی یہ لغوی معنی جن کی طرف اس نے ڈھالا ضرور بلا شک حقیقی معنی ہیں اس کا انکار ہٹ دھرمی ہے بایں ہمہ قائل کا ادعا مقبول نہیں کہ اس نے یہ معنی لغوی مراد لئے تھے، اس لئے کہ یہ تاویل نہایت دور ازکار ہے اور لفظ کا اس کے معنی ظاہر سے پھیرنا مسموع نہیں ہوتا جیسے کوئی اپنی عورت کو کہے تو طالق ہے اور کہے میں نے تو یہ مراد لیا تھا کہ تو کھلی ہوئی ہے بندھی نہیں ہے ( کہ لغت میں طالق کشادہ کو کہتے ہیں) تو ایسی تاویل کی طرف التفات نہ ہوگا اور اسے ہذیان سمجھا جائے گا۔
وہ بالیقین ان الفاظ کو اپنے لئے مدح و فضل جانتا ہے ، نہ ایک ایسی بات کہ :
دندان تو جملہ در دہانند چشمان تو زیر ابرو انند
(تیرے تمام دانت منہ میں ہیں، تیری آنکھیں ابرو کے نیچے ہیں۔ ت)
کوئی عاقل بلکہ نیم پاگل بھی ایسی بات کو جو ہر انسان ہر بھنگی چمار بلکہ ہر جانور بلکہ ہر کافر مرتد میں موجود ہو محلِ مدح میں ذکر نہ کریگا نہ اس میں اپنے لئے فضل وشرف جانے گا بھلا کہیں براہین غلامیہ میں یہ بھی لکھا کہ سچا خدا وہی ہے جس نے مرزا کی ناک میں دو (2) نتھنے رکھے، مرزا کے کان میں دو(2) گھونگے بنائے، یا خدا نے براہین احمدیہ میں لکھا ہے کہ اس عاجز کی ناک ہونٹوں سے اوپر اور بھوؤں کے نیچے ہے، کیا ایسی بات لکھنے والا پورا مجنون پکا پاگل نہ کہلایا جائے گا۔ اور شک نہیں کہ وہ معنی لغوی یعنی کسی چیز کی خبر رکھنا یا دینا یا بھیجا ہوا ہونا، ان مثالوں سے بھی زیادہ عام ہیں بہت جانوروں کے ناک کان بھویں اصلاً نہیں ہوتیں مگر خدا کے بھیجے ہوئے وہ بھی ہیں ، اﷲ نے انہیں عدم سے وجود نر کی پیٹھ سے مادہ کے پیٹ سے دنیا کے میدان میں بھیجا جس طرح اس مرد ک خبیث نے بچّھو کو رسول بمعنی لغوی بنایا۔
مولوی معنوی قدس سرہ القوی مثنوی شریف میں فرماتے ہیں:
1۔کل یوم ھو فی شان بخواں مرورابیکار و بے فعلے مداں
(روزانہ اﷲ تعالیٰ اپنی شان میں، پڑھ اس کو بیکار اور بے عمل ذات نہ سمجھ۔ت)
2۔ کمتریں کارش کہ ہر روز ست آں کُوسہ لشکر روانہ میکند
(اس کا معمولی کام ہر روز یہ ہوتا ہے کہ روزانہ تین لشکر روانہ فرماتا ہے۔ت)
3۔ لشکر ے زاصلاب سوئے امہات بہرآں تا دررحم روید نبات
(ایک لشکر پشتوں سے امہات کی طرف،تاکہ عورتوں کے رحموں میں پیدائش ظاہر فرمائے۔ت)
4۔ لشکرے زار حام سوئے خاکدان تاز نر ومادہ پر گرددجہاں
(ایک لشکر ماؤں کے رحموں سے زمین کی طرف، تاکہ نر و مادہ سے جہان کو پُر فرمائے۔ت)
5۔ لشکرے از خاکداں سوئے اجل تابہ بیند ہر کسے حسنِ عمل13
(ایک لشکر دنیا سے موت کی جانب تاکہ ہر ایک اپنے عمل کی جزا کو دیکھے۔ت)
حق عزوجل فرماتا ہے:
فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِ عَ وَ الدَّمَ14
ہم نے فرعونیوں پر بھیجے طوفان اور ٹڈیاں اور جُوئیں اور مینڈکیں اور خون۔
کیا مرزا ایسی ہی رسالت پر فخر رکھتا ہے جسے ٹڈی اور مینڈک اور جُوں اور کتے اور سؤر سب کو شامل مانے گا، ہر جانور بلکہ ہر حجر و شجر بہت سے علوم سے خبردار ہے اور ایک دوسرے کو خبر دینا بھی صحاح احادیث سے ثابت،
حضرت مولوی قدس سرہ المعنوی ان کی طرف سے فرماتے ہیں:
ما سمیعیم وبصیریم وخوشیم باشما نامحرماں ما خامشیم 15
ہم آپس میں سننے،دیکھنے والے اور خوش ہیں، تم نامحرموں کے سامنے ہم خاموش ہیں۔
اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰـكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ 16
کوئی چیز ایسی نہیں جو اﷲ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو مگر ان کی تسبیح تمہاری سمجھ میں نہیں آتی۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:
مَا مِن ْشَيءٍ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّيْ رَسُوْلُ اللهِ إلا كفرةُ أو فَسَقةُ الجنِّ والإنسِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْكَبِيرِ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَصَحَّحَهُ خَاتِمُ الحُفَّاظِ 17
کوئی چیز ایسی نہیں جو مجھے اﷲ کا رسول نہ جانتی ہو سوا کافر جن اور آدمیوں کے۔(طبرانی نے کبیر میں یعلٰی بن مرہ سے روایت کیا اور خاتم الحفاظ نے اسے صحیح کہا۔ت)
حق سبحانہ تعالیٰ فرماتا ہے:
فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍ بِنبَاٍ یَّقِیْنٍ 18
کچھ دیر ٹھہر کر ہد ہد بارگاہ سلیمانی میں حاضر ہوا اور عرض کی مجھے ایک بات وہ معلوم ہوئی ہے جس پر حضور کو اطلاع نہیں اور میں خدمت عالی میں ملک سبا سے ایک یقینی خبر لے کر حاضر ہوا ہوں۔
حدیث میں رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:
ما مِنْ صَباحٍ وَلَا رَواحٍ إِلَّا وَبِقاعُ الأَرْضِ يُنادي بَعْضُها بَعْضًا: يا جارَةُ، هَلْ مَرَّ بِكِ اليَوْمَ عَبْدٌ صالِحٌ صَلَّى عَلَيْكِ أَوْ ذَكَرَ اللهَ؟ فَإِنْ قالَتْ: نَعَمْ، رَأَتْ أَنَّ لَها بِذَلِكَ فَضْلًا. رَواهُ الطَّبَرانيُّ فِي الأوسط وَأبو نُعَيْمٍ فِي الحِلْيَة عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ تَعالى عَنْهُ 19
کوئی صبح اور شام ایسی نہیں ہوتی کہ زمین کے ٹکڑے ایک دوسرے کو پکار کر نہ کہتے ہوں کہ اے ہمسائے! آج تجھ پر کوئی نیک بندہ گزرا جس نے تجھ پر نماز پڑھی یا ذکر الہٰی کیا، اگر وہ ٹکڑا جواب دیتا ہے کہ ہاں تو وہ پوچھنے والا ٹکڑا اعتقاد کرتا ہے کہ اسے مجھ پر فضیلت ہے۔ (اسے طبرانی نے اوسط میں اور ابونعیم نے حلیہ میں حضرت انسسے روایت کیا۔ت)
تو خبر رکھنا، خبر دینا سب کچھ ثابت ہے۔ کیا مرزا ہر اینٹ پتھر،ہر بت پرست کافر، ہر ریچھ بندر، ہر کتے سؤر کو بھی اپنی طرح نبی ورسول کہے گا؟ ہرگز نہیں، تو صاف روشن ہوا کہ معنی لغوی ہر گز مراد نہیں بلکہ یقیناً وہی شرعی وعرفی رسالت ونبوت مقصود اور کفر وارتداد یقینی قطعی موجود۔
وبعبارۃ اخری معنی کے چار ہی قسم ہیں، لغوی، شرعی، عرفی، عام یا خاص، یہاں عرف عام تو بعینہٖ وہی معنی شرعی ہے جس پر کفر قطعاً حاصل، اور ارادہ لغوی کا ادعاء یقیناً باطل، اب یہی رہا کہ فریب دہی عوام کو یوں کہہ دے کہ میں نے اپنی خاص اصطلاح میں نبی و رسول کے معنی اور رکھے ہیں جن میں مجھے سگ و خوک سے امتیاز بھی ہے اور حضرات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے وصفِ نبوت میں اشتراک بھی نہیں، مگر حاش ﷲ! ایسا باطل ادعاء اصلاً شرعاً عقلاً عرفاً کسی طرح بادشتر سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا، ایسی جگہ لغت وشرع وعرف عام سب سے الگ اپنی نئی اصطلاح کا مدعی ہونا قابل قبول ہو تو کبھی کسی کافر کی کسی سخت سے سخت بات پر گرفت نہ ہوسکے کوئی مجر م کسی معظم کی کیسی ہی شدید توہین کر کے مجرم نہ ٹھہرسکے کہ ہر ایک کو اختیار ہے اپنی کسی اصطلاح خاص کا دعوٰی کردے جس میں کفرو توہین کچھ نہ ہو، کیا زید کہہ سکتا ہے خدا دو ہیں جب اس پر اعتراض ہو کہہ دے میری اصطلاح میں ایک کو دو کہتے ہیں، کیا عمرو جنگل میں سؤر کو بھاگتا دیکھ کر کہہ سکتا ہے وہ قادیانی بھاگا جاتا ہے، جب کوئی مرزائی گرفت چاہے کہہ دے میری مراد وہ نہیں جو آپ سمجھے میری اصطلاح میں ہر بھگوڑے یا جنگلی کو قادیانی کہتے ہیں، اگر کہئے کوئی مناسبت بھی ہے تو جواب دے کہ اصطلاح میں مناسبت شرط نہیں لا مشاحۃ فی الاصطلاح(اصطلاح میں کوئی اعتراض نہیں) آخر سب جگہ منقول ہی ہونا کیا ضرور، لفظ مرتجل بھی ہوتا ہے جس میں معنی اوّل سے مناسبت اصلاً منظور نہیں، معہذا قادی بمعنی جلدی کنندہ ہے یا جنگل سے آنے والا۔
قاموس میں ہے:
قَدَّتْ قادِيَّةٌ، جاءَ قَوْمٌ قَدًا، قَحَموا مِنَ البادِيَةِ، والفَرَسُ قَدْيانًا أَسْرَعَ20
قوم جلدی میں آئی، قدت قادیۃ کا ایک معنی قدت من البادیۃ یا قدت الفرس جنگل سے آیا، یا گھوڑے کو تیز کیا۔
قادیان اس کی جمع اور قادیانی اس کی طرف منسوب یعنی جلدی کرنے والوں یا جنگل سے آنے والوں کا ایک، اس مناسبت سے میری اصطلاح میں ہر بھگوڑے جنگلی کا نام قادیانی ہوا، کیا زید کی وہ تقریر کسی مسلمان یا عمرو کی یہ توجیہ کسی مرزائی کو مقبول ہوسکتی ہے، حاشا وکلّا کوئی عاقل ایسی بناوٹوں کو نہ مانے گا بلکہ اسی پر کیا موقوف، یوں اصطلاح خاص کا ادعاء مسموع ہوجائے تو دین و دنیا کے تمام کارخانے درہم برہم ہوں، عورتیں شوہروں کے پاس سے نکل کر جس سے چاہیں نکاح کرلیں کہ ہم نے تو ایجاب وقبول نہ کیا تھا، اجازت لیتے وقت ہاں کہاتھا، ہماری اصطلاح (ہاں) بمعنی (ہوں) یعنی کلمہ جزر وانکار ہے، لوگ بیع نامے لکھ کر رجسٹری کر اکر جائدادیں چھین لیں کہ ہم نے تو بیع نہ کی تھی بیچنا لکھا تھا، ہماری اصطلاح میں عاریت یا اجارے کو بیچنا کہتے ہیں الٰی غیر ذٰلک من فسادات لا تحصٰی (ایسے بہت سے فسادات ہوں گے۔ت) تو ایسی جھوٹی تاویل والا خود اپنے معاملات میں اسے نہ مانے گا، کیا مسلمانوں کو زن ومال اﷲ ورسول (جل جلالہ و ﷺ) سے زیادہ پیارے ہیں کہ جو رو اور جائداد کے باب میں تاویل سنیں اور اﷲ و رسول کے معاملے میں ایسی ناپاک بناوٹیں قبول کرلیں لا الٰہ الا اﷲ مسلمان ہر گز ایسے مردود بہانوں پر التفات بھی نہ کریں گے انہیں اﷲ و رسول اپنی جان اور تمام جہان سے زیادہ عزیز ہیں و ﷲ الحمد جل جلالہ و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خود ان کا رب جل وعلا قرآن عظیم میں ایسے بیہودہ عذروں کا دربار جلا چکا ہے،
فرماتا ہے:
لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ 21
ان سے کہہ دو بہانے نہ بناؤ بیشک تم کافر ہوچکے ایمان کے بعد۔ والعیاذ باﷲ تعالیٰ رب العالمین ۔
ثالثاً:کفر چہارم میں امتی و نبی کا مقابلہ صاف اسی معنی شرعی وعرفی کی تعیین کررہا ہے۔
رابعاً:کفر اول میں تو کسی جھوٹے ادعائے تاویل کی بھی گنجائش نہیں، آیت میں قطعاً معنی شرعی ہی مراد ہیں نہ کہ لغوی، نہ اس شخص کی کوئی اصطلاح خاص، اور اسی کو اس نے اپنے نفس کے لئے مانا تو قطعاً یقینا بمعنی شرعی ہی اپنے نبی اﷲ ورسول اﷲ ہونے کا مدعی اور
وَ لٰـكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِينَ 22
(ہاں اﷲ کے رسول ہیں اور سب نبیو ں میں پچھلے۔ت)
کا منکر اور باجماع قطعی جمیع امت مرحومہ مرتدو کافر ہوا، سچ فرمایا سچے خدا کے سچے رسول سچے خاتم النّبیین محمد مصطفی ﷺ نے کہ عنقریب میرے بعد آئیں گے۔
ثَلاثونَ دَجَّالونَ كَذَّابونَ، كُلُّهُم يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ 23
تیس (۳۰) دجال کذاب کہ ہر ایک اپنے کو نبی کہے گا
وَأَنَا خاتَمُ النَّبِيِّينَ، لَا نَبِيَّ بَعْدِي 24
حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں
اٰمنت اٰمنت صلی اﷲ تعالیٰ علیک وسلم
میں ایمان لایا میں ایمان لایا، اﷲ تعالیٰ آپ پر صلوٰۃ و سلام نازل فرمائے۔ت)
اسی لئے فقیر نے عرض کیا تھا کہ مرزا ضرور مثیل مسیح ہے صَدَق بلکہ مسیح دجّال کا کہ ایسے مدعیوں کو یہ لقب خود بارگاہ رسالت سے عطا ہواوالعیاذ باﷲ رب العٰلمین۔
دافع البلاء ص ۱۰ پر حضرت مسیح
سے اپنی برتری کا اظہار کیا ہے۔ 25
اسی رسالے کے صفحہ ۱۷ پر لکھا ہے:
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے۔ 26
اشتہار معیار الاخیار میں لکھا ہے :
میں بعض نبیوں سے بھی افضل ہوں۔ 27
یہ ادعاء بھی باجماعِ قطعی کفر وارتداد یقینی ہیں، فقیر نے اپنے فتوی مسمّٰی بہ ردّالرفضۃ میں شفاء شریف امام قاضی عیاض و روضہ امام نووی وارشاد الساری امام قسطلانی وشرح عقائد نسفی و شرح مقاصد امام تفتازانی واعلام امام ابن حجر مکی ومنح الروض علامہ قاری وطریقہ محمدیہ علامہ برکوی وحدیقہ ندیہ مولٰی نابلسی وغیرہا کتب کثیرہ کے نصوص سے ثابت کیا ہے کہ باجماعِ مسلمین کوئی ولی کوئی غوث کوئی صدیق بھی کسی نبی سے افضل نہیں ہوسکتا، جو ایسا کہے قطعاً اجماعاً کافر ملحد ہے۔
ازاں جملہ شرح صحیح بخاری شریف میں ہے:
النَّبِيُّ أَفْضَلُ مِنَ الوَلِيِّ، وَهُوَ أَمْرٌ مَقْطُوعٌ بِهِ، وَالقَائِلُ بِخِلَافِهِ كافِرٌ، كَأَنَّهُ مَعْلُومٌ مِنَ الشَّرْعِ بِالضَّرُورَةِ 28
یعنی ہر نبی ہر ولی سے افضل ہے اور یہ امر یقینی ہے اور اس کے خلاف کہنے والا کافر ہے کہ یہ ضروریاتِ دین سے ہے۔
میں ایسے ایک لطیف تاویل کی گنجائش تھی کہ یہ لفظ (نبیوں) بتقدیم نون نہیں بلکہ (بنیوں) بہ تقدیم با ہے یعنی بھنگی درکنار کہ خود ان کے تو لال گرو کا بھائی ہوں ان سے تو افضل ہوا ہی چاہوں میں تو بعض بنیوں سے بھی افضل ہوں کہ انہوں نے صرف آٹے دال میں ڈنڈی ماری اور یہاں وہ ہتھ پھیری کی بیسیوں کا دین ہی اڑ گیا، مگر افسوس کہ دیگر تصریحات نے اس تاویل کی جگہ نہ رکھی۔
ازالہ صفحہ ۳۰۹ پر حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے معجزات کو جن کا ذکر خدا وند تعالیٰ بطور احسان فرماتا ہے مسمریزم لکھ کر کہتا ہے:
اگر میں اس قسم کے معجزات کو مکروہ نہ جانتا تو ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ 29
یہ کفر متعدد کفروں کا خمیرہ ہے معجزات کو مسمریزم کہنا ایک کفر کہ اس تقدیر پر وہ معجزہ نہ ہوئے بلکہ معاذ اﷲ ایک کسبی کرشمے ٹھہرے، اگلے کافروں نے بھی ایسا ہی کہا تھا۔
اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ وَ اِذْ تُخْرِ جُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَا اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ 30
جب فرمایا اﷲ سبحانہ نے اے مریم کے بیٹے! یاد کر میری نعمتیں اپنے اوپر اور اپنی ماں پر جب میں نے پاک روح سے تجھے قوت بخشی لوگوں سے باتیں کرتا پالنے میں اور پکی عمر کا ہو کر اور جب میں نے تجھے سکھایا لکھنا اور علم کی تحقیقی باتیں اور توریت اور انجیل اور جب تو بناتا مٹی سے پرند کی سی شکل میری پروانگی سے پھر تو اس میں پھونکتا تو وہ پرند ہوجاتی میرے حکم سے اور تو چنگا کرتا مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو میری اجازت سے، اور جب تو قبروں سے جیتا نکالتا مردوں کو میرے اذن سے اور جب میں نے یہود کو تجھ سے روکا جب تو ان کے پاس یہ روشن معجزے لے کر آیا تو ان میں کے کافر بولے یہ تو نہیں مگر کھلا جادو۔
مسمریزم بتایا یا جادو کہا، بات ایک ہی ہوئی یعنی الٰہی معجزے نہیں کسبی ڈھکوسلے ہیں، ایسے ہی منکروں کے خیال ضلال کو حضرت مسیح کلمۃ اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علی سیّدہ وعلیہ وسلم نے بار بار بتا کید رد فرمادیا تھا اپنے معجزات مذکورہ ارشاد کرنے سے پہلے فرمایا:
اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئةِ الطَّیْرِ ( الآیة)31
میں تمہارے پاس رب کی طرف سے معجزے لایا کہ میں مٹی سے پرند بناتا اورپھونک مار کر اسے جِلاتا اور اندھے اور بدن بگڑے کو شفا دیتا اور خدا کے حکم سے مردے جِلاتا اور جو کچھ گھر سے کھا کر آؤ اور جو کچھ گھر میں اٹھا رکھو وہ سب تمہیں بتاتا ہوں۔
اور اس کے بعد فرمایا:
اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ32
بیشک ان میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان لاؤ۔
پھر مکرر فرمایا:
جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ 33
میں تمہارے رب کے پاس سے معجزہ لایا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا حکم مانو۔
مگر جو حضرت عیسٰی
کے رب کی نہ مانے وہ حضرت عیسٰی
کی کیوں ماننے لگا، یہاں تو اسے صاف گنجائش ہے کہ اپنی بڑائی سبھی کرتے ہیں ع؎
کس نہ گوید کہ دروغ من ترش ست
کو ئی نہیں کہتا کہ میرا جھوٹ ترش ہے۔
پھر ان معجزات کو مکروہ جاننا دوسرا کفریہ کہ کراہت اگر اس بنا پر ہے کہ وہ فی نفسہٖ مذموم کام تھے جب تو کفر ظاہر ہے۔
قال اﷲ تعالیٰ:
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ 34
یہ رسول ہیں کہ ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی۔
اور اسی فضیلت کے بیان میں ارشاد ہوا:
وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ 35
اورہم نے عیسٰی بن مریم کو معجزے دئے اور جبرئیل سے اس کی تائید فرمائی۔
اور اگر اس بنا پر ہے کہ وہ کام اگرچہ فضیلت کے تھے مگر میرے منصب اعلٰی کے لائق نہیں تو یہ وہی نبی پر اپنی تفضیل ہے ہر طرح کفر وارتداد قطعی سے مفر نہیں، پھر ان کلمات شیطانیہ میں مسیح کلمۃ اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علٰی سیّدہ وعلیہ وسلم کی تحقیر تیسرا کفر ہے اور ایسی ہی تحقیر اس کلام ملعون کفر ششم میں تھی اور سب سے بڑھ کر اس کفرنہم میں ہے کہ ازالہ صفحہ ۱۶۱ پر حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت لکھا
بوجہ مسمریزم کے عمل کرنے کے تنویر باطن اور توحید اور دینی استقامت میں کم درجے پر بلکہ قریب ناکام رہے۔ 36
انا ﷲ وانّا الیہ راجعون، الا لعنۃ اﷲ علٰی اعداء انبیاء اﷲ وصلی اﷲ تعالیٰ علٰی انبیائہ وبارک وسلم
(ہم اﷲ کی ملکیت اور ہم اس کی طرف ہی لوٹنے والے ہیں، انبیاء اﷲ کے دشمنوں پر اﷲ تعالیٰ کی لعنت، اﷲ تعالیٰ کی رحمتیں اس کے انبیاءپر اور برکتیں اور سلام۔ ت)
ہر نبی کی تحقیر مطلقاً کفر قطعی ہے جس کی تفصیل سے شفاء شریف وشروحِ شفاء وسیف مسلول امام تقی الملۃ والدین سبکی وروضہ امام نووی و وجیز امام کردری و اعلام امام حجر مکّی وغیر ہا تصانیف ائمہ کرام کے دفتر گونج رہے ہیں نہ کہ نبی بھی کون نبی مرسل نہ کہ مرسل بھی کیسا مرسل اولوالعزم نہ کہ تحقیر بھی کتنی کہ مسمریزم کے سبب نور باطن نہ نور باطن بلکہ دینی استقامت نہ دینی استقامت بلکہ نفس توحید میں کم درجہ بلکہ ناکام رہے اس ملعون قول لعن اﷲ قائلہ وقابلہ (اسے کہنے والے اور قبول کرنے والے پر اﷲ کی لعنت) نے اولوالعزمی ورسالت و نبوت درکنار اس عبداﷲ و کلمۃ اﷲ و روح اﷲ علیہ وصلوٰۃ اﷲ وسلام وتحیات اﷲ کے نفس ایمان میں کلام کردیا اس کا جواب ہمارے ہاتھ میں کیا ہے سوا اس کے کہ:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا 37
بیشک جو لوگ ایذا دیتے ہیں اﷲ اور اس کے رسول کو ان پر اﷲنے لعنت کی دنیا وآخرت میں اور ان کے لئے تیار کر رکھا ہے ذلّت کا عذاب۔
ازالہ صفحہ ۶۲۹ پر لکھتا ہے:
ایک زمانے میں چار سو نبیوں کی پیشگوئی غلط ہوئی اور وہ جھوٹے۔38
یہ اس کی پیش بندی ہے کہ یہ کذّاب اپنی بڑ میں ہمیشہ پیشگوئیاں ہانکتا رہتا ہے اور بعنایت الٰہی وہ آئے دن جھوٹی پڑا کرتی ہیں تو یہاں یہ بتانا چاہتا ہے کہ پیشگوئی غلط پڑی کچھ شان نبوت کے خلاف نہیں معاذ اﷲ اگلے انبیاء میں بھی ایسا ہوتا ہے۔(اینہم برعلم)ہوئی اور وہ جھوٹے)۔
یہ صراحۃً انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسّلام کی تکذیب ہے عام اقوام کفار لعنہم اﷲ کا کفر حضرت عزت عزّ جلالہ نے یوں ہی تو بیان فرمایا:
كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ ﹰالْمُرْسَلِیْنَ39
كَذَّبَتْ عَادُ ان ِلْمُرْسَلِیْنَ40
كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ الْمُرْسَلِیْنَ41
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطِ ﹰالْمُرْسَلِیْنَ42
كَذَّبَ اَصْحٰبُ الا یْكَةِ الْمُرْسَلِیْنَ43
(نوح کی قوم نے پیغمبروں کو جھٹلایا، عاد نے رسولوں کو جھٹلایا، ثمود نے رسولوں کو جھٹلایا، لوط کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا، بَن والوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔ ت)
ائمہ کرام فرماتے ہیں، جو نبی پر اس کی لائی ہوئی بات میں کذب جائز ہی مانے اگرچہ وقوع نہ جانے باجماع کفر ہے نہ کہ معاذ اﷲ چارسو انبیاء کا اپنے اخبار بالغیب میں کہ و ہ ضرور اﷲ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔واقع میں جھوٹا ہوجانا،
شفا شریف میں ہے:
مَنْ دانَ بالوَحْدانِيَّةِ وَصِحَّةِ النُّبُوَّةِ، وَنُبُوَّةِ نَبِيِّنا صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَكِنْ جَوَّزَ عَلَى الأَنْبِياءِ الكَذِبَ فِيمَا أَتَوْا بِهِ، ادَّعَى في ذَلِكَ المَصْلَحَةَ بِزَعْمِهِ أَوْ لَمْ يَدَّعِهَا، فَهُوَ كافِرٌ بِإِجْماعٍ 44
یعنی جو اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت نبوّت کی حقانیت ہمارے نبی ﷺ کی نبوت کا اعتقاد رکھتا ہو بایں ہمہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر انکی باتوں میں کذب جائز مانے خواہ بزعمِ خود اس میں کسی مصلحت کا ادعا کرے یا نہ کرے ہر طرح بالاتفاق کافر ہے۔
ظالم نے چار سو کہہ کر گمان کیا کہ اس نے باقی انبیاء کو تکذیب سے بچالیا حالانکہ یہی آیتیں جو ابھی تلاوت کی گئی ہیں شہادت دے رہی ہیں کہ اس نے آدم نبی اﷲ سے محمد رسول اﷲ تک تمام انبیائے کرام علیہم افضل الصلوٰۃ والسلام کو کاذب کہہ دیا کہ ایک رسول کی تکذیب تمام مرسلین کی تکذیب ہے۔
دیکھو قوم نوح وہود وصالح ولوط و شعیب علیہم الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ایک ہی نبی کی تکذیب کی تھی مگر قرآن نے فرمایا: قوم نوح نے سب رسولوں کی تکذیب کی، عاد نے کل پیغمبروں کو جھٹلایا، ثمود نے جمیع انبیاء کو کاذب کہا، قوم لوط نے تمام رسل کو جھوٹا بتایا، ایکہ والوں نے سارے نبیوں کو دروغ گو کہا، یونہی واﷲ اس قائل نے نہ صرف چار سو بلکہ جملہ انبیاء و مرسلین کو کذاب مانا۔
فَلَعَنَ اللهُ مَنْ كَذَّبَ أَحَدًا مِنْ أَنْبِيَائِهِ، وَصَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَى أَنْبِيَائِهِ وَرُسُلِهِ وَالمُؤْمِنِينَ بِهِم أَجْمَعِينَ، وَجَعَلَنَا مِنْهُمْ، وَحَشَرَنَا فِيهِم، وَأَدْخَلَنَا مَعَهُمْ دَارَ النَّعِيمِ بِجَاهِهِمْ عِنْدَهُ، وَبِرَحْمَتِهِ بِهِمْ وَرَحْمَتِهِمْ بِنَا، إِنَّهُ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، وَالحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ العَالَمِينَ
(اﷲ تعالیٰ کے کسی نبی کو جھوٹا کہنے والے پر اﷲتعالیٰ کی لعنت اور اﷲ تعالیٰ اپنے انبیاء ورسولوں پر اور ان کے وسیلہ سے تمام مومنین پر رحمت فرمائے اور ہمیں ان میں بنائے، ان کے ساتھ حشر اور ان کے ساتھ جنت میں داخل فرمائے، ان کی اپنے ہاں وجاہت اور ان پر اپنی رحمت اور انکی ہم پر رحمت کے سبب وہ برحق بڑا رحیم و رحمٰن ہے سب حمدیں اﷲ تعالیٰ کے لئے جو سب جہانوں کا رب ہے۔ت)
طبرانی معجم کبیر میں وَبَر حنفی
سے راوی رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں:
إِنِّي أَشْهَدُ عَدَدَ تُرَابِ الدُّنْيَا أَنَّ مُسَيْلِمَةَ كَذَّابٌ 45
بیشک میں ذرّہ ہائے خاک تمام دنیا کے برابر گواہیاں دیتا ہوں کہ مسیلمہ (جس نے زمانہ اقدس میں ادعائے نبوت کیا تھا) کذاب ہے۔
وَأَنَا أَشْهَدُ مَعَكَ يَا رَسُولَ اللهِ 46
(یا رسول اللہ! میں بھی آپ کے ساتھ گواہی دیتا ہوں)
اور محمد رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ عالم پناہ کا یہ ادنٰی کتا بعدد دانہائے ریگ و ستا رہا ئے آسمان گواہی دیتا ہے اور میرے ساتھ تمام ملائکہ سمٰوٰت وارض وحاملانِ عرش گواہ ہیں اور خو د عرش عظیم کا مالک گواہ ہے
وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا 47
(اور اﷲ کافی ہے گواہ۔ت)
کہ ان اقوال مذکورہ کا قائل بیباک کافر مرتد ناپاک ہے۔
اگر یہ اقوال مرزا کی تحریروں میں اسی طرح ہیں تو واﷲ واللہ وہ یقینا کافر اور جو اس کے ان اقوال یا ان کے امثال پر مطلع ہو کر اسے کافر نہ کہے وہ بھی کافر، ندوہ مخذولہ اور اس کے اراکین کہ صرف طوطے کی طرح کلمہ گوئی پر مدارِ اسلام رکھتے اور تمام بددینوں گمراہوں کو حق پر جانتے، خدا کو سب سے یکساں راضی مانتے، سب مسلمانوں پر مذہب سے لادعوے دینا لازم کرتے ہیں جیسا کہ ندوہ کی رو داد اوّل و دوم ورسالہ اتفاق وغیرہا میں مصرح ہے ان اقوال پر بھی اپنا وہی قاعدہ ملعونہ مجرد کلمہ گوئی نیچریت کا اعلٰی نمونہ جاری رکھیں اس کی تکفیر میں چون وچرا کریں تووہ بھی کافر، وہ اراکین بھی کفار، مرزا کے پیرو اگرچہ خود ان اقوال انجس الابوال کے معتقد نہ بھی ہوں مگر جب کہ صریح کفر و کھلے ارتداد دیکھتے سنتے پھر مرزا کو امام و پیشوا و مقبول خدا کہتے ہیں قطعاً یقینا سب مرتد ہیں سب مستحقِ نار۔
(یہ اقوال دوسرے کے منقول تھے اس فتوے کے بعد مرزا کی بعض نئی تحریریں خود نظر سے گزریں جن میں قطعی کفر بھرے ہیں بلاشبہہ وہ یقینا کافر مرتد ہے۱۲۔)
شفاء شریف میں ہے:
نُكَفِّرُ مَنْ لَمْ يُكَفِّرْ مَنْ دانَ بِغَيْرِ مِلَّةِ المُسْلِمِينَ مِنَ المِلَلِ، أَوْ وَقَفَ فِيهِمْ، أَوْ شَكَّ 48
یعنی ہم ہر اس شخص کو کافر کہتے ہیں جوکافر کو کافر نہ کہے یا اسکی تکفیر میں توقف کرے یا شک رکھے۔
(ماخوذ ۔۔۔ رسالہ السوء والعقاب علی المسیح الکذاب ۔۔۔از علامہ احمد رضا خان محدث بریلی
)